عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَمْرَةَ ، أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قالت:" مَا أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِهَا فِي الصُّبْحِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے «ق، والقرآن المجيد» کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے (سن سن کر) یاد کیا ہے، آپ اسے فجر میں (بکثرت) پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 950]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18363)، مسند احمد 6/463 (شاذ) (اس کے راوی ’’ابن ابی الرجال‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں اس لیے کبھی غلطی کر جاتے تھے، اور یہاں کر بھی گئے ہیں، محفوظ یہ ہے کہ منبر پر خطبہ میں پڑھنے کی بات ہے، جیسا کہ مؤلف کے یہاں بھی آ رہا ہے، دیکھئے رقم: 1412)»
قال الشيخ الألباني
شاذ والمحفوظ أن ذلك كان في خطبة الجمعة
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: شاذ والمحفوظ أن ذلك كان في خطبة الجمعة