بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 943 — باب: قرآن سے متعلق جامع باب۔
کتب سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے کے مسائل و احکام باب: قرآن سے متعلق جامع باب۔ حدیث 943
قُتَيْبَةُ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِذَا عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: صاحب قرآن ۱؎ کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کے اونٹ رسی سے بندھے ہوں، جب تک وہ ان کی نگرانی کرتا رہتا ہے تو وہ بندھے رہتے ہیں، اور جب انہیں چھوڑ دیتا ہے تو وہ بھاگ جاتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 943]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/فضائل القرآن 23 (5031)، صحیح مسلم/المسافرین 32 (789)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 8368)، موطا امام مالک/القرآن 4 (6)، مسند احمد 2/65، 112، 156 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: صاحب قرآن سے قرآن کا حافظ مراد ہے، خواہ پورے قرآن کا حافظ ہو یا اس کے کچھ اجزاء کا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (942) باب پر واپس اگلی حدیث (945) →