إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، خَالِدٌ ، شُعْبَةُ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ ، أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قال: سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَعَاهُ قَالَ: فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي" قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي قَالَ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24" أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ: فَذَهَبَ لِيَخْرُجَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْلَكَ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي الَّذِي أُوتِيتُ وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، اور انہیں بلایا، تو میں نے نماز پڑھی، پھر آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”ابوسعید تمہیں مجھے جواب دینے سے کس چیز نے روکا؟“ کہا: میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا ہے!: «يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم» ”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب وہ تمہیں ایسی چیز کی طرف بلائیں جو تمہارے لیے حیات بخش ہو“ (الحجر: ۸۷) کیا تم کو مسجد سے نکلنے سے پہلے میں ایک عظیم ترین سورت نہ سکھاؤں؟“ آپ مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے جو کہا تھا بتا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سورت «الحمد لله رب العالمين» ہے، اور یہی «سبع المثاني» ۱؎ ہے جو مجھے دی گئی ہے، یہی قرآن عظیم ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 914]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/تفسیر الفاتحة 1 (4474)، تفسیر الأنفال 3 (4647)، تفسیر الحجر 3 (4703)، فضائل القرآن 9 (5006)، سنن ابی داود/الصلاة 350 (1458)، سنن ابن ماجہ/الأدب 52 (3785)، (تحفة الأشراف: 12047)، مسند احمد 3/450، 4 (211)، سنن الدارمی/الصلاة 172 (1533)، فضائل القرآن 12 (3414)، موطا امام مالک/ الصلاة 8 (37) من حدیث أبی بن کعب (صحیح)»
وضاحت
۱؎: سورۃ فاتحہ کا نام «سبع المثاني» ہے، «سبع» اس لیے ہے کہ یہ سات آیتوں پر مشتمل ہے، اور «مثانی» اس لیے کہ یہ نماز کی ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہے، اس کی اسی اہمیت و خصوصیت کے اعتبار سے اسے قرآن عظیم کہا کیا ہے، گرچہ قرآن کی ہر سورت قرآن عظیم ہے جس طرح کعبہ کو بیت اللہ کہا جاتا ہے گرچہ اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں، لیکن اس کی عظمت و خصوصیت کے اظہار کے لیے صرف کعبہ ہی کو بیت اللہ کہتے ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح