سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَصَاعِدًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں جو سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ کچھ مزید نہ پڑھے ۱؎“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 911 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ جملہ ایسے ہی ہے جیسے چوری کی سزا قطع «ید» (ہاتھ کاٹنے) کے سلسلے میں صحیح حدیث میں ہے «لا تقطع الید إلا فی ربع دینار فصاعدا» ”چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری پر ہی ہاتھ کاٹا جائے گا“ یعنی چوتھائی دینار سے کم پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، لہٰذا حدیث میں وارد اس جملے کا مطلب یہ ہوا کہ ”اس شخص کی صلاۃ نہیں ہو گی جس نے سورۃ فاتحہ سے کم پڑھا“۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح