إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، هِشَامٍ ، سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، هِشَامٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ. ح وأَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص کوکھ (کمر) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 891]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«حدیث إسحاق بن إبراہیم تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14516)، وحدیث سوید بن نصر أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 11 (545)، (تحفة الأشراف: 14532)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل في الصلاة 17 (1220)، سنن ابی داود/الصلاة 176 (947)، سنن الترمذی/الصلاة 165 (383)، مسند احمد 2/232، 290، 295، 331، 399، سنن الدارمی/الصلاة 138 (1468) (صحیح)»
وضاحت
۱؎ نماز بارگاہ الٰہی میں عجز و نیاز مندی کے اظہار کا نام ہے، اس کے برخلاف کوکھ (کمر) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے تکبر کا اظہار ہوتا ہے، اس لیے اس سے منع کیا گیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ شیطان جب چلتا ہے تو اسی طرح چلتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح