حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، سَعِيدٌ ، زِيَادٍ الْأَعْلَمِ ، الْحَسَنُ ، أَبَا بَكْرَةَ
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع میں تھے، تو انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ آپ کی حرص میں اضافہ فرمائے، پھر ایسا نہ کرنا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الاذان 114 (783)، سنن ابی داود/الصلاة 101 (683، 684)، (تحفة الأشراف: 11659)، مسند احمد 5/39، 42، 45، 46، 50 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ خیر کی حرص گو محبوب و مطلوب ہے لیکن اسی صورت میں جب یہ شریعت کے مخالف نہ ہو، اور اس طرح صف میں شامل ہونا شرعی طریقے کے خلاف ہے، اس لیے اس سے بچنا اولیٰ ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح