سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا وَأُمِّي وَالْيَتِيمُ وَأُمُّ حِرَامٍ خَالَتِي فَقَالَ:" قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ بِكُمْ" قَالَ:" فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ" قَالَ: فَصَلَّى بِنَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس آئے، اور اس وقت وہاں صرف میں، میری ماں، ایک یتیم، اور میری خالہ ام حرام تھیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھو تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں“، (یہ کسی نماز کا وقت نہ تھا) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 803]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المساجد 48 (660)، فضائل الصحابة 32 (2481) (في سیاق أطول وبدون ذکر الیتیم في کلا الموضعین)، (تحفة الأشراف: 409)، مسند احمد 3/193، 217 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح