إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ التَّحَلُّقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَعَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے، اور مسجد میں خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 715]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 220 (1079) مطولاً، سنن الترمذی/الصلاة 124 (322) مطولاً، سنن ابن ماجہ/المساجد 5 (749) مختصراً، وإقامة 96 (1133) مختصراً، (تحفة الأشراف: 8796)، مسند احمد 2/179، 212 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جمعہ کے دن مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ جمعہ کے دن مسجد میں خطبہ سننا اور خاموش رہنا ضروری ہے، اور جب لوگ حلقہ بنا کر بیٹھیں گے تو خواہ مخواہ باتیں کریں گے، اور اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ جمعہ سے پہلے کسی وقت بھی حلقہ باندھ کر نہیں بیٹھ سکتے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن