قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا فَتَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ وَلَجَ، فَلَقِيتُ بِلَالًا فَسَأَلْتُهُ: هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ" صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور ان لوگوں نے خانہ کعبہ کا دروازہ بند کر لیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھولا تو سب سے پہلے اندر جانے والا میں تھا، پھر میں بلال رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے دونوں یمانی ستونوں یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان نماز پڑھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلاة 30 (397)، 81 (468)، 96 (504، 505)، التھجد 25 (1167)، الحج 51 (1598، 1599)، الجھاد 127 (2988) مطولاً، المغازي 49 (4289) مطولاً، 77 (4400) مطولاً، صحیح مسلم/الحج 68 (1329)، سنن ابی داود/الحج 93 (2023، 2024، 2025)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج 79 (3063)، (تحفة الأشراف: 2037)، موطا امام مالک/الحج 63 (193)، مسند احمد 2/23، 33، 55، 113، 120، 138، 6/12، 13، 14، 15، سنن الدارمی/المناسک 43 (1909)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 750، 2908، 2909، 2910، 2911 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح