عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى ، كَهْمَسٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ كَهْمَسٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دو اذان ۱؎ کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، جو چاہے اس کے لیے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 682]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 14 (624)، 16 (627)، صحیح مسلم/المسافرین 56 (838)، سنن ابی داود/الصلاة 300 (1283)، سنن الترمذی/الصلاة 22 (185) مختصراً، سنن ابن ماجہ/إقامة 110 (1162)، (تحفة الأشراف: 9658)، مسند احمد 4/86 و 5/54، 55، 57، سنن الدارمی/الصلاة 145 (1480) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ہر دو اذان سے مراد اذان اور اقامت ہے جیسا کہ مؤلف نے ترجمۃ الباب میں اشارہ کیا ہے، اس حدیث سے مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا استحباب ثابت ہو رہا ہے، جس کے لیے دوسرے دلائل موجود ہیں «واللہ أعلم» ۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح