إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، شُعْبَةُ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِي يَحْيَى ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، سَمِعَهُ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ بِمَدِّ صَوْتِهِ وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان مبارک کو یہ کہتے سنا ہے: ”مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اس کی مغفرت کر دی جائے گی، اور تمام خشک وتر اس کی گواہی دیں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 31 (515) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الأذان 5 (724) مطولاً، (تحفة الأشراف: 15466)، مسند احمد 2/266، 411، 429، 458، 461 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی جتنی بلند اس کی آواز ہو گی اسی قدر اس کی بخشش ہو گی، یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قدر مسافت میں اس کے جتنے گناہوں کی سمائی ہو گی وہ سب بخش دیئے جائیں گے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح