يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يَحْيَى ، يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ، فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ"، قَالَ: فَفَعَلْنَا، فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رات کے آخری حصہ میں سونے کے لیے پڑاؤ ڈالا، تو ہم (سوتے رہے) جاگ نہیں سکے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کو چاہیئے کہ اپنی سواری کا سر تھام لے (یعنی سوار ہو کر یہاں سے نکل جائے) کیونکہ یہ ایسی جگہ ہے جس میں شیطان ہمارے ساتھ رہا“، ہم نے ایسا ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی مانگا اور وضو کیا، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر اقامت کہی گئی تو آپ نے فجر پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المساجد 55 (680)، (تحفة الأشراف: 13444)، مسند احمد 2/428، 429 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح