عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى ، هِشَامٍ ، أَبِي ، عَائِشَةُ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي، قال: قالت عَائِشَةُ:" مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعت کبھی بھی نہیں چھوڑیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المواقیت 33 (591)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 17311)، مسند احمد 6/50 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: بہت سے علماء نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے مخصوص قرار دیا ہے، کیونکہ ایک بار آپ سے ظہر کے بعد کی دونوں سنتیں فوت ہو گئی تھیں جن کی قضاء آپ نے عصر کے بعد کی تھی، پھر آپ نے اس کا التزام شروع کر دیا تھا، اور قضاء کا التزام قطعی طور پر آپ ہی کے لیے مخصوص ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح