بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 5722 — باب: کون سا طلاء پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز؟
کتب سنن نسائی کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل باب: کون سا طلاء پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز؟ حدیث 5722
حدیث نمبر: 5722 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، دَاوُدَ ، سَعِيدًا ، عُمَرُ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ , قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدًا: مَا الشَّرَابُ الَّذِي أَحَلَّهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؟ , قَالَ:" الَّذِي يُطْبَخُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى ثُلُثُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
داود کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن المسیب سے پوچھا: وہ کون سا مشروب ہے جسے عمر رضی اللہ عنہ نے حلال قرار دیا؟ وہ بولے: جو اس قدر پکایا جائے کہ اس کا دو تہائی حصہ ختم ہو جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5722]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 18701) (صحیح لغیرہ)»
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح لغيره
← پچھلی حدیث (5721) باب پر واپس اگلی حدیث (5723) →