مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، الْمُعْتَمِرُ ، مَنْصُورًا ، إِبْرَاهِيمَ ، نُبَاتَةَ ، سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ نُبَاتَةَ , عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ , قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى بَعْضِ عُمَّالِهِ:" أَنِ ارْزُقْ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الطِّلَاءِ مَا ذَهَبَ ثُلُثَاهُ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی عامل (گورنر) کو لکھا: مسلمانوں کو وہ طلاء پینے دو جس کے دو حصے جل گئے ہوں اور ایک حصہ باقی ہو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5718]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10461) (حسن، صحیح الإسناد)»
وضاحت
۱؎: انگور کا رس دو تہائی جل گیا ہو اور ایک تہائی رہ جائے تو اس کو طلا کہتے ہیں، یہ حلال ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، إبراهيم النخعي مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367
الحكم: حسن صحيح موقوف