قُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، أَبِي وَائِلٍ ، مَسْرُوقٍ ، مَسْرُوقٌ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ:" الْقَاضِي إِذَا أَكَلَ الْهَدِيَّةَ فَقَدْ أَكَلَ السُّحْتَ، وَإِذَا قَبِلَ الرِّشْوَةَ بَلَغَتْ بِهِ الْكُفْرَ". (حديث مقطوع) (حديث موقوف) وَقَالَ مَسْرُوقٌ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَقَدْ كَفَرَ، وَكُفْرُهُ أَنْ لَيْسَ لَهُ صَلَاةٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مسروق کہتے ہیں کہ قاضی نے جب ہدیہ لیا ۱؎ تو اس نے حرام کھایا، اور جب اس نے رشوت قبول کر لی تو وہ کفر تک پہنچ گیا، مسروق نے کہا: جس نے شراب پی، اس نے کفر کیا اور اس کا کفر یہ ہے کہ اس کی نماز (قبول) نہیں ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19433) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”خلف“ حافظہ کے کمزور ہیں)»
وضاحت
۱؎: یعنی کسی ایسے شخص سے جس سے قاضی بننے سے پہلے نہیں لیتا تھا۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، الحكم بن عتيبة عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 366
الحكم: ضعيف الإسناد مقطوع