مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمٍ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ , وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَهَى عَنِ الظُّرُوفِ شَكَتْ الْأَنْصَارُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَيْسَ لَنَا وِعَاءٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَا إِذًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب کچھ برتنوں سے روکا تو انصار کو شکایت ہوئی، چنانچہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس کوئی اور برتن نہیں ہے تو آپ نے فرمایا: ”تب تو نہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5659]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الٔ شربة 8 (5592)، سنن ابی داود/الٔاشربة 7 (3699)، سنن الترمذی/الٔعشربة 6 (1871)، (تحفة الأشراف: 2240) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی پھر تو ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح