سُوَيْدٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عَوْنِ بْنِ صَالِحٍ الْبَارِقيِّ ، زَيْنَبَ بِنْتِ نَصْرٍ ، وَجَمِيلَةَ بِنْتِ عَبَّادٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ صَالِحٍ الْبَارِقيِّ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ نَصْرٍ، وَجَمِيلَةَ بِنْتِ عَبَّادٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَتَا عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَنْهَى عَنْ شَرَابٍ صُنِعَ فِي دُبَّاءٍ، أَوْ حَنْتَمٍ، أَوْ مُزَفَّتٍ لَا يَكُونُ زَيْتًا، أَوْ خَلًّا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایسے مشروب سے منع فرماتے ہوئے سنا جو کدو کی تونبی، یا لاکھی برتن، یا روغنی برتن میں تیار کیا گیا ہو، سوائے زیتون کے تیل اور سر کے کے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5639]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17832)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأشربة 15 (3407) (حسن)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ یہ نشہ لانے والی چیزیں نہیں ہوتیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: حسن