مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي رَجَاءٍ ، الْحَسَنَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: حَرَامٌ , قَدْ حَدَّثَنَا مَنْ لَمْ يَكْذِبْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْحَنْتَمِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابورجاء کہتے ہیں کہ میں نے حسن بصری سے لاکھی برتن کی نبیذ کے بارے میں پوچھا: کیا وہ حرام ہے؟ انہوں نے کہا: حرام ہے، ہم سے اس شخص نے بیان کیا جو جھوٹ نہیں بولتا (یعنی بعض صحابہ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سبز روغنی گھڑا، کدو کی تونبی، روغنی برتن اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5626]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15549) (صحیح لغیرہ)»
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح لغيره