سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، وَأَبَا دُجَانَةَ , فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ، فَقَالَ: حَدَثَ خَبْرٌ:" نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ" , فَكَفَأْنَا، قَالَ: وَمَا هِيَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الْفَضِيخُ خَلِيطُ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ، قَالَ: وَقَالَ أَنَسٌ:" لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ , وَإِنَّ عَامَّةَ خُمُورِهِمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں انصار کے ایک قبیلے میں ابوطلحہ، ابی بن کعب اور ابودجانہ رضی اللہ عنہم کو شراب پلا رہا تھا، اتنے میں ہمارے پاس ایک شخص نے آ کر کہا: خبر ہے! شراب کی حرمت نازل ہوئی ہے، یہ سن کر ہم لوگ باز آ گئے۔ اور اس وقت شراب فضیخ ہوتی تھی جو گدر (ادھ کچی) اور سوکھی کھجور کا کو ملا کر بنتی تھی۔ اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب شراب حرام ہوئی تو اس وقت وہ عام طور پر فضیخ کی ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الٔئشربة 1 (180)، (تحفة الأشراف: 1190) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح