بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 5527 — باب: اعمال کی برائی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان اور ہلال کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
کتب سنن نسائی کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام باب: اعمال کی برائی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان اور ہلال کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔ حدیث 5527
حدیث نمبر: 5527 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، جَرِيرٍ ، مَنْصُورٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ: عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو؟ قَالَتْ: كَانَ يَقُولُ:" أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
فردہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کون سی دعا مانگتے تھے؟ وہ بولیں: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہتے تھے: «أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» میں عمل کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو میں نے کیا ہے اور جو نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (5526) باب پر واپس اگلی حدیث (5528) →