الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ ، مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبُو بَكْرَةَ
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، وَكَانَ عَامِلًا عَلَى سِجِسْتَانَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَقْضِيَنَّ أَحَدٌ فِي قَضَاءٍ بِقَضَاءَيْنِ، وَلَا يَقْضِي أَحَدٌ بَيْنَ خَصْمَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن ابوبکرہ (سجستان کے گورنر تھے) کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کوئی ایک قضیہ میں دو فیصلے نہ کرے ۱؎، اور نہ کوئی دو فریقوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 5408 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ قضاء کا مقدمہ جھگڑے کو ختم کرنا ہے، اور ایک ہی معاملہ میں دو طرح کے فیصلے سے جھگڑا ختم نہیں ہوتا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح