أَبُو دَاوُدَ ، عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ , فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا , فَكَشَفَ سِتْرَ حُجْرَتِهِ , فَنَادَى:" يَا كَعْبُ"، قَالَ: لَبَّيْكَ , يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا" , وَأَوْمَأَ إِلَى الشَّطْرِ، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ:" قُمْ فَاقْضِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے قرض کا جو ان کے ذمہ تھا تقاضا کیا، ان دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سنائی دیں، آپ اپنے گھر میں تھے، چنانچہ آپ ان کی طرف نکلے، پھر اپنے کمرے کا پردہ اٹھایا اور پکارا: ”کعب!“ وہ بولے: حاضر ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اتنا قرض معاف کر دو“ اور آپ نے آدھے اشارہ کیا۔ کہا: میں نے معاف کیا، پھر آپ نے (ابن ابی حدرد سے) کہا: ”اٹھو اور قرض ادا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلاة 71 (457)، 73 (471)، الخصومات 4 (2418)، 9 (2424)، الصلح 10 (2706)، 14 (2710)، صحیح مسلم/البیوع 25 (المساقاة4) (1558)، سنن ابی داود/الأقضیة (3595)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 18 (2429)، (تحفة الأشراف: 11130)، مسند احمد (6/390)، سنن الدارمی/البیوع 49 (2629) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح