الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ ، شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَرَجَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا وَلَدَاهُمَا فَأَخَذَ الذِّئْبُ أَحَدَهُمَا، فَاخْتَصَمَتَا فِي الْوَلَدِ إِلَى دَاوُدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى مِنْهُمَا، فَمَرَّتَا عَلَى سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَام , فَقَالَ: كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمَا؟ قَالَتْ: قَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، قَالَ سُلَيْمَانُ: أَقْطَعُهُ بِنِصْفَيْنِ لِهَذِهِ نِصْفٌ، وَلِهَذِهِ نِصْفٌ , قَالَتِ الْكُبْرَى: نَعَمِ , اقْطَعُوهُ. فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لَا تَقْطَعْهُ هُوَ وَلَدُهَا، فَقَضَى بِهِ لِلَّتِي أَبَتْ أَنْ يَقْطَعَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”دو عورتیں نکلیں، ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، ان میں سے ایک پر بھیڑیئے نے حملہ کر دیا اور اس کے بچے کو اٹھا لے گیا، وہ اس بچے کے سلسلے میں جو باقی رہ گیا تھا جھگڑتی ہوئی داود علیہ السلام کے پاس آئیں، انہوں نے ان میں سے بڑی کے حق میں فیصلہ دیا، وہ سلیمان علیہ السلام کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا: تم دونوں کے درمیان کیا فیصلہ کیا؟ (چھوٹی) بولی بڑی کے حق میں فیصلہ کیا، سلیمان علیہ السلام نے کہا: میں اس بچے کو دو حصوں میں تقسیم کروں گا، ایک حصہ اس کے لیے اور دوسرا حصہ اس کے لیے ہو گا، بڑی عورت بولی: ہاں! آپ اسے کاٹ دیں، جب کہ چھوٹی عورت نے کہا: ایسا نہ کیجئیے، یہ بچہ اسی کا ہے، چنانچہ انہوں نے اس کے حق میں فیصلہ کیا جس نے بچہ کو کاٹنے سے روکا تھا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 5404 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: سلیمان علیہ السلام نے اپنے باپ داود علیہ السلام کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، یہی باب سے مطابقت ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح