عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، دَاوُدُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثُمَّ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَأَنْتُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ، وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسَقَمُ السَّقِيمِ، لَأَمَرْتُ بِهَذِهِ الصَّلَاةِ أَنْ تُؤَخَّرَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم لوگوں کو مغرب پڑھائی، پھر آپ نہیں نکلے یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، پھر نکلے اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ”لوگ نماز پڑھ کر سو گئے ہیں، اور تم لوگ جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے نماز ہی میں تھے، اگر کمزور کی کمزوری، اور بیمار کی بیماری نہ ہوتی تو میں حکم دیتا کہ اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کیا جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 7 (422)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 8 (693)، (تحفة الأشراف: 4314)، مسند احمد 3/5 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح