مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَر ، مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ أَبُو مُطَرِّفٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَر، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ أَبُو مُطَرِّفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْطَجَعَ عَلَى نَطْعٍ فَعَرِقَ، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى عَرَقِهِ فَنَشَّفَتْهُ فَجَعَلَتْهُ فِي قَارُورَةٍ، فَرَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟" , قَالَتْ: أَجْعَلُ عَرَقَكَ فِي طِيبِي، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک کھال پر لیٹے تو آپ کو پسینہ آ گیا، ام سلیم رضی اللہ عنہا اٹھیں اور پسینہ اکٹھا کر کے ایک شیشی میں بھرنے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”ام سلیم! یہ تم کیا کر رہی ہو؟“ وہ بولیں: میں آپ کے پسینے کو عطر میں ملاؤں گی، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہنسنے لگے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5373]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 967)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاستئذان 41 (6281)، صحیح مسلم/الفضائل 22 (2331)، مسند احمد (3/136، 221) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پسینے کے ساتھ خاص تھا، چنانچہ سلف میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی نے کسی کا پسینہ محفوظ رکھا ہو۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح