قُتَيْبَةُ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، وَقَدْ سَتَّرْتُ بِقِرَامٍ عَلَى سَهْوَةٍ لِي فِيهِ تَصَاوِيرُ , فَنَزَعَهُ وَقَالَ:" أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر سے آئے، میں نے ایک روشندان میں ایک پردہ لٹکا رکھا تھا، جس میں تصویریں تھیں، چنانچہ آپ نے اسے اتار دیا اور فرمایا: ”قیامت کے روز سب سے سخت عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/اللباس 91 (5954)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2107)، (تحفة الأشراف: 17483)، مسند احمد (6/36، 83، 85، 86، 199، 219) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح