مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، شُعْبَةُ ، خَلِيفَةُ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ: لَا تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تم اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ اس لیے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/اللباس 25 (5834)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، (تحفة الأشراف: 10483)، مسند احمد (1/46) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی اپنی سمجھ ہے، انہوں نے اس فرمان کو عام سمجھا حالانکہ یہ مردوں کے لیے ہے، ممکن ہے ان کو وہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں پہنچ سکی ہو جس میں صراحت ہے کہ ”ریشم امت کی عورتوں کے لیے حلال اور مردوں کے لیے حرام ہے“، واللہ اعلم۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح