بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 5297 — باب: سیراء چادر پہننے کی ممانعت کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل باب: سیراء چادر پہننے کی ممانعت کا بیان۔ حدیث 5297
حدیث نمبر: 5297 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , أَنَّهُ رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءَ تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذَا لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ"، قَالَ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ مِنْهَا بِحُلَلٍ فَكَسَانِي مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا كَسَوْتُكَهَا لِتَكْسُوَهَا , أَوْ لِتَبِيعَهَا"، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مِنْ أُمِّهِ مُشْرِكًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسجد کے دروازے کے پاس میں نے ایک ریشمی دھاری والا جوڑا بکتے دیکھا، تو عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اسے جمعہ کے دن کے لیے اور اس وقت کے لیے جب آپ کے پاس وفود آئیں خرید لیتے (تو اچھا ہوتا) ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ سب وہ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ پھر اس میں کے کئی جوڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، تو ان میں سے آپ نے ایک جوڑا مجھے دے دیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ جوڑا آپ نے مجھے دے دیا، حالانکہ اس سے پہلے آپ نے اس کے بارے میں کیا کیا فرمایا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ پہننے کے لیے نہیں دیا ہے، بلکہ کسی (اور) کو پہنانے یا بیچنے کے لیے دیا ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک ماں جائے بھائی کو دے دیا جو مشرک تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/اللباس 2 (2068)، (تحفة الٔاشراف: 10551) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کی اس بات پر کوئی نکیر نہیں کی، اس سے ثابت ہوا کہ ان مواقع کے لیے اچھا لباس اختیار کرنے کی بات پر آپ نے صاد کیا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (5296) باب پر واپس اگلی حدیث (5298) →