مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، جَرِيرٌ ، رَقَبَةَ ، جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ رَقَبَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قال: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِمِيقَاتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ عِشَاءِ الْآخِرَةِ،" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں اس نماز یعنی عشاء آخرہ کا وقت لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 7 (419)، سنن الترمذی/الصلاة 9 (166)، مسند احمد 4/ 270، 272، 274، سنن الدارمی/الصلاة 18 (1247)، (تحفة الأشراف: 11614) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: تیسری رات کا چاند دو گھنٹے تک رہتا ہے لہٰذا اگر چھ بجے سورج ڈوبے تو آٹھ بجے عشاء پڑھنی چاہیئے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح