أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسًا
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسًا عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ" , وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُسْرَى الْخِنْصَرَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ثابت بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگوٹھی کے بارے میں سوال کیا، تو وہ بولے: گویا میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں، پھر انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کی چھنگلی انگلی کو بلند کیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المساجد 39 (640)، اللباس 16 (2095)، (تحفة الٔاشراف: 333)، مسند احمد (3/276) (صحیح) (انس رضی الله عنہ سے یمین اور یسار یعنی دائیں اور بائیں ہاتھ دونوں میں انگوٹھی پہنے کا ذکر آیا ہے، جس کے بارے میں احادیث کی صحت کے بعد یہ کہنا پڑے گا کہ کبھی دائیں ہاتھ میں پہنے دیکھا اور کبھی بائیں میں، اور بعض اہل علم کے یہاں بائیں میں پہنے والی حدیث راجح اور محفوظ ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الإرواء 3/298، 302، وتراجع الالبانی 159)»
وضاحت
۱؎: یعنی یہ بتار ہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انگوٹھی چھنگلی انگلی میں پہنتے تھے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح