حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ , فَقَالُوا: إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا،" فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ، وَنُقِشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شاہ روم کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا: وہ ایسی کوئی تحریر نہیں پڑھتے جس پر مہر نہ ہو، چنانچہ آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، گویا میں آپ کے ہاتھ میں اس کی سفیدی کو (اس وقت بھی) دیکھ رہا ہوں، اس میں «محمد رسول اللہ» نقش تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 5204 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح