مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، مُعَاوِيَةُ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَنَا، وَأَخَذَ كُبَّةً مِنْ شَعْرٍ، قَالَ:" مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلَّا الْيَهُودَ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ , فَسَمَّاهُ الزُّورَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ آئے اور ہمیں خطاب کیا، آپ نے بالوں کا ایک گچھا لے کر کہا: میں نے سوائے یہود کے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا ۱؎، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک جب یہ چیز پہنچی تو آپ نے اس کا نام دھوکا رکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 5095 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی: اپنے اصلی بالوں میں دوسرے کے بال جوڑنا یہودی عورتوں کا کام ہے، مسلمان عورتوں کو اس سے بچنا ضروری ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح