يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، الْجُرَيْرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عُبَيْدٌ
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يُقَالُ لَهُ: عُبَيْدٌ، قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْإِرْفَاهِ". سُئِلَ ابْنُ بُرَيْدَةَ عَنِ الْإِرْفَاهِ؟ قَالَ: مِنْهُ التَّرَجُّلُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبید نامی ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم «ارفاہ» (بہت زیادہ عیش میں پڑ جانے) سے منع فرماتے تھے۔ عبداللہ بن بریدہ سے پوچھا گیا: «ارفاہ» کیا ہے؟ کہا: «ارفاہ» میں (ہر روز) کنگھی کرنا بھی شامل ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5241]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 5011 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: لفظ «ترجل» کا معنی ”ہر روز کنگھی کرنا“ اس لیے کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود بھی کنگھی کرتے تھے، اور اس کی ترغیب بھی دیتے تھے، (جیسا کہ حدیث نمبر: ۵۲۳۸ میں ہے) آپ نے صرف کثرت سے کنگھی کرنے سے منع فرمایا، اور ناغہ کر کے کرنے کی اجازت دی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح