بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 5192 — باب: ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اور قتادہ کے شاگردوں کے اختلاف کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل باب: ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اور قتادہ کے شاگردوں کے اختلاف کا بیان۔ حدیث 5192
حدیث نمبر: 5192 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، إِسْرَائِيلُ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمٍ ، رَجُلٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِخْصَرَةٌ , أَوْ جَرِيدَةٌ , فَضَرَبَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَلَا تَطْرَحُ هَذَا الَّذِي فِي إِصْبَعِكَ؟" فَأَخَذَهُ الرَّجُلُ، فَرَمَى بِهِ , فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ:" مَا فَعَلَ الْخَاتَمُ؟" قَالَ: رَمَيْتُ بِهِ، قَالَ:" مَا بِهَذَا أَمَرْتُكَ إِنَّمَا أَمَرْتُكَ أَنْ تَبِيعَهُ، فَتَسْتَعِينَ بِثَمَنِهِ". وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ میں چھڑی تھی یا ٹہنی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے اس کی انگلی پر مارا۔ اس شخص نے کہا: کیا وجہ ہے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: کیا تم اسے نہیں پھینکو گے جو تمہارے ہاتھ میں ہے؟ چنانچہ اس شخص نے اسے نکال کر پھینک دیا، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دیکھا اور فرمایا: انگوٹھی کیا ہوئی؟ وہ بولا: میں نے اسے پھینک دی۔ آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا، میں نے تو تمہیں صرف اس بات کا حکم دیا تھا کہ اسے بیچ دو اور اس کی قیمت کو کام میں لاؤ۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) یہ حدیث منکر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1927) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، اس لیے یہ سند ضعیف ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، رجل (من قومه): مجهول. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
الحكم: ضعيف الإسناد
← پچھلی حدیث (5191) باب پر واپس اگلی حدیث (5193) →