مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، مُعْتَمِرٌ ، مَعْمَرًا ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قال: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَوْ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی دو رکعت ۲؎ یا سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے (نماز کا وقت) پا لیا ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المساجد 30 (608)، سنن ابی داود/الصلاة 5 (412)، مسند احمد 2/ 282، (تحفة الأشراف: 13576) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: بعض نسخوں میں اس باب میں «ركعة» کا لفظ ہے۔ ۲؎: اکثر روایتوں میں ہے ایک رکعت پالی۔ ۳؎: یعنی اس کی یہ دونوں صلاتیں ادا سمجھی جائیں گی نہ کہ قضاء۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح