حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ابْنُ عَوْنٍ ، الشَّعْبِيِّ ، الْحَارِثِ
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُوتَشِمَةَ" , قَالَ:" إِلَّا مِنْ دَاءٍ" , فَقَالَ:" نَعَمْ، وَالْحَالُّ وَالْمُحَلَّلُ لَهُ، وَمَانِعُ الصَّدَقَةِ، وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ" وَلَمْ يَقُلْ لَعَنَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے، سود پر گواہی دینے والے، سود کا حساب لکھنے والے پر، اور گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے، الا یہ کہ وہ کسی مرض کی وجہ سے ہو تو آپ نے فرمایا: ”ہاں“ اور آپ نے حلالہ کرنے اور کروانے والے پر، اور زکاۃ نہ دینے والے پر (لعنت فرمائی) اور آپ نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے (نوحہ کے بارے میں) «لعن» کا لفظ نہیں کہا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ یہ حارث اعور کی مرسل روایت ہے)»
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، حارث الأعور ضعيف،. ولبعض الحديث شواهد صحيحة. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
الحكم: صحيح