يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الدَّرَاوَرْدِيُّ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ابْنَ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ بِالْخَلُوقِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ بِالْخَلُوقِ، قَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَفِّرُ بِهَا لِحْيَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِنَ الصِّبْغِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهَا , وَلَقَدْ كَانَ يَصْبُغُ بِهَا ثِيَابَهُ كُلَّهَا حَتَّى عِمَامَتَهُ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی ڈاڑھی خلوق سے پیلی کرتے تھے، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! آپ اپنی ڈاڑھی خلوق سے پیلی کرتے ہیں؟ کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس سے اپنی ڈاڑھی پیلی کرتے تھے، اور کوئی بھی رنگ آپ کو اس سے زیادہ پسند نہیں تھا، آپ اس سے اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ اپنی پگڑی بھی رنگتے تھے ۲؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابوقتیبہ کی حدیث کے مقابلے میں یہ زیادہ قرین صواب ہے ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/اللباس 18 (4064)، (تحفة الأشراف: 6728)، ویأتی برقم 5118 (صحیح الإسناد)»
وضاحت
۱؎: ”خلوق“ ایک قسم کی خوشبو ہے جو کئی چیز سے بنتی ہے، اس میں ورس اور زعفران بھی شامل ہے۔ ۲؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو پیلے رنگ کی اجازت منسوخ ہو جانے کی خبر نہیں مل سکی تھی، پیلا رنگ عورتوں کا رنگ ہونے کے سبب مردوں کے لیے منسوخ کر دیا گیا۔ ۳؎: ابوقتیبہ کی روایت مؤلف کے یہاں آگے آ رہی ہے (حدیث نمبر ۵۲۴۵) اس روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کرنے والے زید بن اسلم کی جگہ ”عبید“ ہیں، مؤلف یہی بتار ہے ہیں کہ سائل ”زید“ ہیں نہ کہ ”عبید“۔
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد