قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، وَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر پڑھتے اور سورج بلند اور تیز ہوتا، اور جانے والا (نماز پڑھ کر) عوالی جاتا، اور سورج بلند ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«وقد أخرجہ عن طریق شعیب عن الزہری: صحیح مسلم/المساجد 34 (621)، سنن ابی داود/الصلاة 5 (404)، سنن ابن ماجہ/فیہ 5 (682)، (تحفة الأشراف: 1522)، مسند احمد 3/ 223 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مدینہ کے اردگرد جنوب مغرب میں جو بستیاں تھیں انہیں عوالی کہا جاتا تھا، ان میں سے بعض مدینہ سے دو میل بعض تین میل اور بعض آٹھ میل کی دوری پر تھیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح