يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ , وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ , وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ کے دن لایا گیا، سفیدی میں ان کا سر اور ڈاڑھی دونوں «ثغامہ» کی طرح سفید تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5079]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/اللباس 24 (2102)، سنن ابی داود/الترجل 18 (4204)، (تحفة الأشراف: 2807)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 33 (3624)، مسند احمد (3/306، 322، 338) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «ثغامہ» ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح