عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، الْمُعَافَى ، زُهَيْرٌ ، مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، فَمَنْ كَانَتْ فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ لَمْ تَزَلْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَتْرُكَهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تین باتیں جس شخص میں ہوں، وہ منافق ہے: جب بات چیت کرے تو جھوٹ بولے، جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، اور جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک عادت ہو تو اس میں نفاق کی ایک عادت ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5026]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9309 ألف) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد موقوف