إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ وَطَعْمَهُ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ فِي اللَّهِ، وَأَنْ يَبْغُضَ فِي اللَّهِ، وَأَنْ تُوقَدَ نَارٌ عَظِيمَةٌ فَيَقَعَ فِيهَا أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں جس میں ہوں گی، وہ ایمان کی مٹھاس اور اس کا مزہ پائے گا، ایک یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہوں، دوسرے یہ کہ آدمی محبت کرے تو اللہ کے لیے اور نفرت کرے تو اللہ کے لیے، تیسرے یہ کہ اگر بڑی آگ بھڑکائی جائے تو اس میں گرنا اس کے نزدیک زیادہ محبوب ہو بہ نسبت اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4990]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 928)، مسند احمد (3/207، 278) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کسی روایت میں ”ایمان کی مٹھاس“ ہے اور کسی میں ”اسلام کی مٹھاس“ ایسی جگہوں میں ”ایمان“ اور ”اسلام“ دونوں کا معنی مطلب ایک ہے یعنی دین اسلام، اور جہاں دونوں لفظ ایک سیاق میں آئیں تو دونوں کا معنی الگ الگ ہوتا ہے۔ (جیسے حدیث نمبر ۴۹۹۳ میں)۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح