مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، الْحَجَّاجُ ، مَكْحُولٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ ، لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: قُلْتُ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ: أَرَأَيْتَ تَعْلِيقَ الْيَدِ فِي عُنُقِ السَّارِقِ مِنَ السُّنَّةِ هُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ ," أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَ يَدَهُ , وَعَلَّقَهُ فِي عُنُقِهِ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ضَعِيفٌ وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹا اور اس کی گردن میں لٹکا دیا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: حجاج بن ارطاۃ ضعیف ہیں، ان کی حدیث لائق حجت نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4986]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4411) وانظر الحدي السابق (4985) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 359
الحكم: ضعيف