بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 4916 — باب: مال کی وہ مقدار جس کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا؟
کتب سنن نسائی کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل باب: مال کی وہ مقدار جس کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا؟ حدیث 4916
حدیث نمبر: 4916 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" قَطَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ"، هَذَا الصَّوَابُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک ڈھال (چرانے) پر (چور کا) ہاتھ کاٹا جس کی قیمت پانچ درہم تھی ۱؎۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) یہی روایت صحیح ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4916]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1290) (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ ایک واقعہ ہے جس میں پانچ درہم مال کی چوری ہوئی تھی، اگر کم کی ہوئی ہوتی (تین تک) تو بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ ہاتھ کاٹتے، یا ان کو پچھلی حدیث نہیں پہنچی تھی۔ ۲؎: یعنی انس رضی اللہ عنہ کی اس روایت کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: حسن صحيح
← پچھلی حدیث (4915) باب پر واپس اگلی حدیث (4917) →