بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 4860 — باب: دیت کے سلسلے میں عمرو بن حزم کی حدیث کا ذکر اور اس کے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل باب: دیت کے سلسلے میں عمرو بن حزم کی حدیث کا ذکر اور اس کے راویوں کے اختلاف کا بیان۔ حدیث 4860
حدیث نمبر: 4860 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ حَزْمٍ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: جَاءَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَزْمٍ بِكِتَابٍ فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا بَيَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ سورة المائدة آية 1" , فَتَلَا مِنْهَا آيَاتٍ، ثُمَّ قَالَ:" فِي النَّفْسِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ، وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ، وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ فَرِيضَةً، وَفِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ، وَفِي الْأَسْنَانِ خَمْسٌ خَمْسٌ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زہری کہتے ہیں کہ ابوبکر بن حزم میرے پاس ایک تحریر لے آئے جو چمڑے کے ایک ٹکڑے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے لکھی ہوئی تھی: یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیان ہے: اے ایمان والو! عہد و پیمان پورے کرو، پھر انہوں نے اس میں سے بعض آیات تلاوت کیں، پھر کہا: جان میں دیت سو اونٹ ہیں، آنکھ میں پچاس، ہاتھ میں پچاس، پیر میں پچاس، مغز تک پہنچنے والے زخم میں تہائی دیت، پیٹ کے اندر تک پہنچی چوٹ میں تہائی دیت اور ہڈی سرک جانے میں پندرہ اونٹنیاں ہیں۔ انگلیوں میں دس دس، دانتوں میں پانچ پانچ اور اس زخم میں جس میں ہڈی نظر آئے پانچ پانچ اونٹ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4860]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 4850 (ضعیف) (مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (4859) باب پر واپس اگلی حدیث (4861) →