هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ ، صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَعُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ مال جو تقسیم نہ ہوا ہو، اس میں شفعہ کا حق ہے۔ لہٰذا جب حد بندی ہو جائے اور راستہ متعین ہو جائے تو اس میں شفعہ کا حق نہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4708]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19583) (صحیح) (یہ حدیث مرسل ہے، اس لیے کہ ابوسلمہ نے یہاں پر واسطہ کا ذکر نہیں کیا، لیکن صحیح بخاری، کتاب الشفعہ (2257) میں ابو سلمہ نے اس حدیث کو جابر (رضی الله عنہ) سے روایت کیا ہے)»
وضاحت
۱؎: حق شفعہ کے سلسلہ میں مناسب اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ حق ایسے دو پڑوسیوں کو حاصل ہو گا جن کے مابین پانی، راستہ وغیرہ مشتر کہوں، دوسری صورت میں یہ حق حاصل نہیں ہو گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح