مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ، بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ ، أَبِي أَيُّوبَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُوهُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ رَجُلًا، قال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ، ذَرْهَا كَأَنَّهُ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو، اسے چھوڑ دو“ گویا آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 469]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الزکاة 1 (1396)، والأدب 10 (5983، 5982)، صحیح مسلم/الإیمان 4 (13)مطولاً، (تحفة الأشراف: 3491)، مسند احمد 5/417، 418 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ اعرابی سامنے آ کر اونٹنی کی باگ تھام کر پوچھ رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جواب دے چکے تو آپ نے اس سے فرمایا: اونٹنی کی باگ چھوڑ دے اسے جانے دے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح