بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 4689 — باب: قرض کی شناعت کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: قرض کی شناعت کا بیان۔ حدیث 4689
حدیث نمبر: 4689 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيُّ ، أَبِيهِ ، الشَّعْبِيِّ ، سَمْعَانَ ، سَمُرَةَ
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمْعَانَ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَقَالَ:" أَهَهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟" ثَلَاثًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَكَ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ أَنْ لَا تَكُونَ أَجَبْتَنِي أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكَ إِلَّا بِخَيْرٍ، إِنَّ فُلَانًا لِرَجُلٍ مِنْهُمْ مَاتَ مَأْسُورًا بِدَيْنِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک جنازے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے تین مرتبہ فرمایا: کیا فلاں گھرانے کا کوئی شخص یہاں ہے؟ چنانچہ ایک شخص کھڑا ہوا تو اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پہلی دو مرتبہ میں کون سی چیز رکاوٹ تھی کہ تم نے میرا جواب نہ دیا، سنو! میں نے تمہیں صرف بھلائی کے لیے پکارا تھا، فلاں شخص ان میں کا ایک آدمی جو مر گیا تھا - اپنے قرض کی وجہ سے (جنت میں جانے سے) رکا ہوا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/البیوع 9 (3341)، (تحفة الأشراف: 4623)، مسند احمد (5/20) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس لیے اس کے قرض کی ادائیگی کا انتظام کرو یا قرض خواہ کو راضی کر لو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3341) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (4688) باب پر واپس اگلی حدیث (4690) →