إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، خَالِدٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ , وَعَنْ هِبَتِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ولاء (وراثت) کو بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4661]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/العتق 3 (1506)، (تحفة الأشراف: 7223)، موطا امام مالک/العتق 10 (20)، مسند احمد (2/9، 79، 107)، سنن الدارمی/البیوع 36 (2614) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اگر کسی نے غلام کو آزاد کیا تو اس غلام کے مرنے پر اگر اس کے عصبہ وارث نہ ہوں، تو آزاد کرنے والا عصبہ ہو گا، اور عصبہ والا ترکے کا حقدار ہو گا اسی کو ولاء کہتے ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح