قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تَعْتِقُهَا , فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ الْوَلَاءَ لَنَا , فَذَكَرَتْ ذَلِكِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ , فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے لونڈی خریدنا چاہی تاکہ اسے آزاد کریں، تو اس کے گھر والوں (مالکان) نے کہا: ہم اسے آپ سے اس شرط پر بیچیں گے کہ ولاء (حق وراثت) ہمارا ہو گا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”تم اس وجہ سے مت رک جانا، کیونکہ ولاء (وراثت) تو اس کے لیے ہے جو آزاد کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/البیوع 73 (2169)، المکاتب2(2562)، الفرائض 19 (6751)، 22(6757)، صحیح مسلم/العتق 2 (1504)، سنن ابی داود/الفرائض 12 (2915)، (تحفة الأشراف: 8334)، موطا امام مالک/العتق 10 (18)، مسند احمد (2/28، 113، 153، 156)، وانظر أیضا حدیث رقم: 2615 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح